شوہر سے چھپ کر دوا کھانے کا سوچا تاکہ حاملہ نہ ہو جاؤں.مگر …….

‘مجھے اپنے پیٹ میں کسی بھی بھاری چیز کے آنے کے خیال سے ڈر لگتا ہے’
یہ کہنا ہے 26 برس کی سیمینتھا کا۔
سیمنتھا ’ٹوکوفوبیا‘ کی مریض ہیں۔ اس مرض سے متاثرہ خواتین کو حمل اور بچہ پیدا کرنے کے عمل سے گزرنے سے ڈر لگتا ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا میں تقریباً 14 فیصد خواتین ایسی ہیں جنہیں اس طرح کا ڈر ستاتا ہے۔
حمل ضائع ہونے سے اعصابی تناؤ کا خطرہ
دورانِ حمل مچھلی کا تیل کھانے سے کوئی فائدہ نہیں

سیمینتھا بتاتی ہیں ‘میرے ذہن میں یہ ڈر ہمیشہ بیٹھا رہتا ہے۔ حاملہ خواتین کو دیکھ کر میں گھبرا جاتی ہوں۔ یہاں تک کہ حمل یا بچہ پیدا کرنے کی بات سن کر ہی مجھے پسینا آنے لگتا ہے۔ میں ڈر سے کانپنے لگتی ہو۔’
بچوں کے لیے کام کرنے والے ادارے ٹامی کے مطابق ‘حمل کا خیال زیادہ تر خواتین کے اعصاب پر طاری ہو جاتا ہے، جو کہ معمولی بات ہے۔ لیکن ٹوکوفوبیا اس معمولی گھبراہٹ سے بلکل الگ ہے۔’

رینی ایسی خواتین کی مدد کے لیے کام کرتی ہیں۔

انہوں نے بتایا ‘ٹوکوفوبیا کی مریض خواتین حمل کو ٹالنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں۔ وہ ماں بننے سے اتنا ڈرتی ہیں کہ اسقاط حمل تک کروا لیتی ہیں۔’

’کیا مجھے کزن میرج کرنی چاہیے‘

مردوں کے لیے مانع حمل کا ہارمون انجیکشن

سیمینتھا بھی ہر ہفتے علاج کروا رہی ہیں لیکن انہیں لگتا ہے کہ ان کے رشتے دار اور دوست اکثر انہیں سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا ‘وہ کہتے ہیں اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے اور اس پر میرا ردعمل بے جا ہے۔’
سیمینتھا کے شوہر کئی برس سے اولاد کے خواہش مند ہیں۔ وہ بتاتی ہیں ‘میں نے اپنے ڈر کو دور کرنے اور مانع حمل گولیاں نہ کھانے کی کوش کی۔ لیکن اب تو میں اتنا ڈرتی ہوں کہ سیکس سے بھی دور رہنا چاہتی ہوں۔’

انہوں نے آگے بتایا ‘میں نے کئی مرتبہ اپنے شوہر سے چھپ کر دوا کھانے کے بارے میں بھی سوچا تاکہ میں حاملہ نا ہو جاؤں۔ میں اس بات کے لیے تیار نہیں ہوں کہ کوئی میرے پیٹ کے اندر سانس لے، ہاتھ پاؤں چلائے اور پیٹ میں ہی پلے بڑھے۔ مجھے اپنے جسم پر بھروسہ نہیں ہے۔ میں نہیں جانتی میرے دماغ میں یہ ڈر کیسے آیا۔’

بچی جو دو بار پیدا ہوئی. دائی سوفی کنگ بتاتی ہیں کہ پہلے کے مقابلے میں اب انہیں ایسی خواتین زیادہ دیکھنے کو ملتی ہیں جنہیں حمل سے متعلق خوف ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا ‘اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ٹوکوفوبیا کا تعلق بے چینی کی کیفیت سے ہے۔ اور آج کل زیادہ لوگ اس مرض سے متاثر ہوتے ہیں۔’

یوکرین میں تین افراد کے مشترکہ بچے کی پیدائش

نائجر میں ’شوہروں کے سکول‘

33 برس کی لارا نے بھی اپنے اس ڈر سے نجات پانے کے لیے تھیریپی کی مدد لی تھی۔ انہوں نے بتایا ‘فلموں اور ٹی وی پر بچے کی پیدائش کے عمل کو اکثر صحیح انداز میں پیش نہیں کیا جاتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ میری ایک سہیلی کو چھ روز تک درد زہ یا لیبر پین ہوا۔ اسے ایسا لگا جیسے وہ دو ٹکڑوں میں بٹ گئی ہو۔ یہ سب سن کر میرے دل میں ڈر بیٹھ گیا تھا۔’

سوفی نے بتایا کہ ٹوکوفوبیا دو طرح کا ہوتا ہے۔ پہلا ان خواتین کو ہوتا ہے جو پہلے کبھی حاملہ نہیں ہوئیں۔ دوسرا انہیں جو ماں بننے کے تجربے سے گزر چکی ہوتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں