کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں…..

کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں…..

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شمالی کوریا کو نیست و نابود کرنے کی دھمکی کو کتے کے بھونکنے سے تشبیہ دی ہے۔

یہ صدر ٹرمپ کے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران شمالی کوریا کو دی گئی دھمکی پر اس کا پہلا سرکاری ردعمل ہے۔

٭ ’راکٹ مین‘ خودکش مشن پر ہے: ڈونلڈ ٹرمپ

٭ شمالی کوریا ایٹمی منصوبہ مکمل کر کے رہے گا: کم جونگ ان

٭ شمالی کوریا امریکہ کو ’شدید درد پہنچائے گا‘

امریکی صدر نے بدھ کو اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر شمالی کوریا امریکہ یا اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بنا تو اسے تباہ و برباد کر دیا جائے گا۔

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہو نے اس بارے میں نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘وہ کہاوت ہے نا کہ کتے بھونکتے رہتے ہیں مگر قافلے چلتے رہتے ہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکی صدر کا خیال ہے کہ ’وہ ہمیں بھونکتے ہوئے کتے کی آواز سے پریشان کر سکتے ہیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے۔’

صدر ٹرمپ نے اپنی تقریر میں شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کا تمسخر اڑاتے ہوئے ان کے بارے میں کہا تھا کہ ‘راکٹ مین خودکش مشن پر ہے۔’

کم جونگ ان کو راکٹ مین کہنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شمالی کوریا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ’ میں ان کے ساتھیوں سے اظہارِ افسوس کرتا ہوں۔’

شمالی کوریا کے وزیرِ خارجہ ری یونگ ہؤ جمعے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حال ہی میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات کیے ہیں۔

دو دن پہلے ہی شمالی کوریا نے متنبہ کیا تھا کہ اگر اس پر مزید پابندیوں اور دباؤ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ‘ہمارے ایٹمی پروگرام میں مزید تیزی آ جائے گی’۔

شمالی کوریا کی جانب سے سخت بیان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے اس پر لگائی جانے والی نئی پابندیاں ‘انتہائی برے، غیر اخلاقی اور غیر انسانی جارحیت ہے۔’

اپنا تبصرہ بھیجیں